چاند پر بھیجے جانے والا روسی مشن ‘غیرمعمولی صورتحال’ کے باعث ناکام ہونے کے قریب

روس کی جانب سے چاند پر بھیجے گئے لونا 25 اسپیس کرافٹ کے حوالے سے ‘غیر معمولی’ صورتحال کو رپورٹ کیا گیا ہے، جس کے بعد مشن کے مستقبل کو غیریقینی صورتحال کا سامنا ہے۔

روسی خلائی ادارے راسکوسموس کی جانب 19 اگست کو بتایا گیا تھا کہ اسپیس کرافٹ کو پری لینڈنگ مدار میں داخلے کی کوشش کے دوران مسئلے کا سامنا ہوا ہے اور ماہرین صورتحال کا تجزیہ کر رہے ہیں۔

اس مسئلے کے باعث یہ اسپیس کرافٹ پری لینڈنگ مدار میں داخل ہونے میں ناکام رہا اور خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ مشن ناکام ہونے کے قریب ہے۔

روسی ادارے کی جانب سے میسجنگ ایپ ٹیلی گرام میں ایک پوسٹ کے دوران بتایا گیا کہ ‘آپریشن کے دوران آٹومیٹک سیکشن میں غیر معمولی صورتحال کا سامنا ہوا، جس کے باعث ہم طے شدہ اقدامات نہیں کرسکے’۔

چاند پر بھیجے گئے روسی خلائی مشن کو لینڈنگ سے قبل ایمرجنسی صورتحال کا سامنا

مگر راسکوسموس کی جانب سے یہ واضح نہیں کیا گیا کہ کس وجہ سے لونا 25 کو پری لینڈنگ مدار میں داخلے کی کوشش کے دوران مسائل کا سامنا ہوا۔

غیر مصدقہ رپورٹس کے مطابق اسپیس کرافٹ سے رابطہ ٹوٹ گیا ہے اور ماہرین نے خیال ظاہر کیا ہے کہ ممکنہ طور پر لونا 25 کہیں گم ہو گیا ہے۔

اس اسپیس کرافٹ نے چاند کے قطب جنوبی پر پیر (21 اگست) کو لینڈ کرنا تھا۔

واضح رہے کہ بھارت اور روس کے درمیان چاند کے قطب جنوبی میں سب سے پہلے مشن اتارنے کا مقابلہ ہو رہا ہے۔

اگر روس کا لونا-25 اپنے پروگرام کے مطابق چاندکی سطح پر اترنے میں کامیاب ہوگیا تو وہ اس دوڑ میں بھارت کو شکست دے کر قطب جنوبی میں مشن اتارنے والا دنیا کا پہلا ملک بن جائےگا، مگر اب ایسا ممکن ہوتا نظر نہیں آرہا۔

بھارت اور روس کے خلائی مشنز کی جانب سے چاند کی سطح کی نئی جھلکیاں جاری

بھارت کا چندریان 3 مشن 23 اگست کو چاند کی سطح پر اترنے کی کوشش کرے گا۔

چاند کا قطب جنوبی سائنسدانوں کی توجہ کا مرکز ہے جن کا ماننا ہے کہ وہاں پانی موجود ہے۔

سائنسدانوں کا خیال ہے کہ وہاں کی چٹانوں پر منجمد پانی کو مستقبل میں خلائی مہمات پر جانے والے افراد راکٹ ایندھن اور دیگر مقاصد کے لیے استعمال کر سکیں گے۔

روسی خلائی ادارے کی جانب سے لونا 25 کے اولین ڈیٹا کو بھی جاری کیا گیا ہے جس کی ابھی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔

لگ بھگ 5 دہائیوں بعد پہلی بار روسی اسپیس کرافٹ چاند کے مدار میں داخل

اس سے قبل 18 اگست کو لونا 25 نے چاند کی سطح کی پہلی تصویر بھی شیئر کی تھی۔

لونا 25 نے چاند کے جنوبی قطب کے قریب Zeeman نامی حصے کی تصویر کھینچی۔

اس حصے میں لگ بھگ 7570 میٹر بلند ایک پہاڑ بھی موجود ہے۔

خیال رہے کہ لونا 25 کو 11 اگست کو روانہ کیا گیا تھا اور یہ 47 سال میں پہلا مشن تھا جو روس نے چاند کی جانب روانہ کیا۔

لونا 25 اسپیس کرافٹ 16 اگست کو چاند کے مدار میں داخل ہوا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں