عالمی سطح پر چاول کی قیمت میں مزید اضافے کا خدشہ

چاول دنیا کے 3 بلین سے زیادہ آبادی کے لیے ایک اہم غذا کا حامل ہے اور تقریباً 90فیصد پانی کی ضرورت والی فصل ایشیاء میں پیدا ہوتی ہے اور اس کی برآمدات بھی ایشیائی ممالک سب سے آگے ہیں۔

غیرملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق چاول کی عالمی برآمدات میں بھارت کا حصہ 40فیصد سے زائد ہے جو کہ سال 2022میں 56 ملین ٹن تک تھی۔

عالمی سطح پر چاول کی قیمتیں گزشتہ کئی سال کی نسبت بلند ترین سطح پر ہیں اور آنے والے دنوں میں اس کی قیمت میں کافی حد تک اضافہ متوقع ہے۔

اس حوالے سے بھارت کے تاجروں نے روئٹرز سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ بھارت میں پابندی کی وجہ سے چاول کی تجارت روک دی گئی ہے،

مقامی سطح پر قیمتوں کو مستحکم کرنے کے لیے چاول کی برآمدات کو روکنے کا حکم دیا گیا ہے جو حالیہ ہفتوں میں کئی سالوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں کیونکہ غیر معمولی موسم کی خرابی کی وجہ سے پیداوار کو خطرہ لاحق ہے۔

ایک بین الاقوامی تجارتی کمپنی سے وابستہ سنگاپور میں مقیم ایک تاجر نے کہا کہ برآمدی منڈی میں چاول کی قیمتیں مزید بڑھنے والی ہیں، ہم توقع کرتے ہیں کہ کم از کم 50ڈالر فی میٹرک ٹن کا فائدہ ہوگا اور بعد میں یہ 100ڈالر یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتا ہے۔

تاجر نے اپنی گفتگو میں مزید کہا کہ ابھی ہر تاجر چاہے وہ بیچنے والا ہو یا خریدار اس بات کا انتظار کر رہے ہیں کہ مارکیٹ اور کتنی اوپر جاتی ہے۔

مزید پڑھیں : چاول کی قیمت میں اضافے کی اصل وجہ کیا ہے؟
بھارت کی جانب سے چاول کی برآمدات پر پابندی لگانے کے فیصلے نے اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں پر نئے خدشات کو جنم دیا ہے۔ اس ہفتے گندم کی عالمی قیمتوں میں 10 فیصد سے زیادہ کا اضافہ ہوا جو کہ 16 ماہ سے زائد عرصے میں ان کا سب سے بڑا ہفتہ وار فائدہ ہے کیونکہ یوکرین کی بندرگاہوں پر روسی حملوں نے عالمی سطح پر سپلائی پر تشویش کو جنم دیا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں